{"product_id":"aatish-e-rafta","title":"Aatish e Rafta - آتش رفتہ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e128\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eNovel\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eجمیلہ ہاشمی \"آتشِ رفتہ\"اُردو کی ممتاز ناول نگار جمیلہ ہاشمی کا ایک اہم ناول ہے۔ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی کہانی جو چار نسلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی کہانی ہے لیکن علامتوں کے آئینوں میں معانی عکس در عکس نمودار ہوتے ہیں، یوں ’’آتشِ رفتہ‘‘ کی کہانی ایک عام کہانی نہیں رہتی، بلکہ ایک خاص فکری متن میں بدل جاتی ہے۔ ’’آتشِ رفتہ‘‘ ایک ایسی آگ ہے جو بظاہر تو بجھ چکی ہے مگر اس کی تپش اور حرارت ایک اضطراب کی شکل میں باقی ہے۔ آتشِ رفتہ کی علامت ایک طرف تو انفرادی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں کردار اپنی گزری ہوئی زندگی کے واقعات کو یاد کرتے ہیں اور دوسری سطح پر یہ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جس کی راکھ وقت کے آتش دان میں ابھی تک سلگ رہی ہے۔ ناول کی ڈکشن میں ایک خاص طرح کی نغمگی اور لطافت ہے جو جمیلہ ہاشمی کے اسلوب کا اختصاص ہے۔ ناول کے امیجز، تشبیہیں اور استعارے پنجاب کی دیہی زندگی کے گرد و پیش سے کشید کیے گئے ہیں جو کہانی کی تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مجموعی طور پر ’’آتشِ رفتہ‘‘ ماضی کے جھٹپٹے میں انفرادی اور اجتماعی یادداشت اور شناخت کی بازیافت کی کہانی ہے جسے جمیلہ ہاشمی کے سحر انگیز اسلوب نے اَمر بنا دیا ہے۔\u003cbr\u003e— شاہد صدیقی\u003cbr\u003eناول \"آدھے ادھورے خواب\"کے مصنف\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eپیری کی اندھیری کوٹھری میں بیٹھا، یادِ ماضی کا اسیر اور احساسِ زیاں میں مبتلا دلدار سنگھ ہر روز پُرانی دشمنیوں، نفرتوں اور خونی انتقاموں کو پھر سے جھیلتا ہے۔ لیکن ان الم ناک یادوں کے نیلگوں دھندلکوں میں دیپو کی محبت کی نارنجی چنگاریاں اب بھی اس کے دل میں سلگتی ہیں۔ اُسے گرماتی ہیں۔ یہ احساس دلاتی ہیں کہ محبت اَمر ہے۔ محبت فاتح عالم ہے۔ ان کڑی گھڑیوں میں یہ دل پذیر یادیں ہی اُس کی مونس و غم خوار ہیں۔ محبت، نفرت اور انتقام کے ازلی جذبات کوایک باکمال حساسیت سے کھوجتے اس شاہکار ناول کی نثر، منظر کشی اور استعارے دیہی پنجاب کے حسین رنگوں، آوازوں، رُتوں اور ثقافتی رعنائیوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی کا یہ شہ پارہ میں نے پہلی مرتبہ اپنے لڑکپن میں پڑھا۔ لیکن اس کی سماں بندی، نغمگی، سوز، اُداسی، ناسٹیلجیا اور آہنگ اتنے منفرد اور مسحورکن ہیں کہ وہ پہلی پڑھنت میرے دل پہ نقش ہے۔ اس آتشِ رفتہ کی حرارت اور چانن میں آج بھی اُتنی ہی شدت ہے۔\u003cbr\u003e— اُسامہ صدیق\u003cbr\u003eناول\"چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں\" کے مصنف\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Jamila Hashmi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":53026883961154,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/aatish-e-rafta.jpg?v=1778167886","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/aatish-e-rafta","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}