{"product_id":"bel-ami","title":"Bel Ami - بیل آمی","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e293\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eUrdu Classical Novel\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e موپاساں کا ایک بے رحم ناول\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eموپاساں کو بہت کم وقت ملا، صرف 43 سال، اور اس کا ادبی سفر صرف دس برسوں پر محیط ہے۔ 1880ء سے 1890ء تک۔ ان دس برسوں میں اس نے چھ ناول لکھے اور 300 مختصر کہانیاں۔ اُس کا ایک ناول \u003cbr\u003e’’بیل آمی‘‘ اُردو داں طبقے میں خاصا معروف ہے۔ اس ناول سے اس نے خوب پیسا کمایا۔ اس دولت سے شہر کے فیشن ایبل علاقے میں فلیٹ لیا۔ یہاں ایک گوشۂ راز و نیاز ترتیب دیا۔ محققین کے بہ قول اس گوشے میں پیرس کی خوش اندام خواتین کا اجتماع رہتا تھا۔ \u003cbr\u003eایک کتاب کے دیباچے میں موپاساں نے ادبی ضابطے کی وضاحت کی ہے۔ اُس کے بیان کے مطابق، عام اور غیرڈرامائی واقعات کے لیے سادہ بیانی ہی بہتر طریق کار ہے۔ وہ سادہ لفظیات کا حامی ہے اور بیان کی زیبائش اور آرائش سے پرہیز کرتا ہے۔ موقع محل کی نسبت سے اُسے موزوں تر لفظ کے انتخاب میں ملکہ حاصل تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ لکھنے والے کو معروضی اور غیرجذباتی انداز اختیار کرنا چاہیے اور خود کو داخل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ موپاساں کا بیشتر کام اُداسی اور قنوطیت کی ایک فضا بناتا ہے۔ اُس کے کردار عموماً سطحی، لالچی، نکمّے، کمینے، شیخی خورے اور کنجوس ہیں۔ وہ خیر و شر کے فیصلے صادر نہیں کرتا۔ جس قماش کے وہ لوگ ہیں، اُن کے دُکھ سُکھ سب کچھ وہ جُوں کا تُوں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس نے کِسانوں اور تاجروں کی خاکہ کشی خُوب کی ہے اور وہ صرف انہی کرداروں تک محدود نہیں رہا ہے۔ \u003cbr\u003eموپاساں نے آخری دن بہت آزمائش میں گزارے۔ 34 سال کی عمر میں وہ اعصابی تناؤ کا مریض ہو گیا تھا۔ 1891ء میں اسے مکمّل جنون کی حالت میں پیرس کے شفاخانے میں داخل کر دیا گیا اور کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اِسی ذہنی اِختلال نے 6 جولائی 1893ء کو اُس کی جان لے لی۔ مگر یہ تو اس کی ظاہری دُوری تھی، وہ آج بھی ہمارے درمیان بہ تمام و کمال بہ ہمہ نفس موجود ہے۔ اِس سے بڑی زندگی اور کیا ہوتی ہے۔\u003cbr\u003e(شکیل عادل زادہ)\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Guy De Maupassant","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":53432272650562,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/bel-ami.jpg?v=1779073975","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/bel-ami","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}