{"product_id":"chehra-ba-chehra-ro-ba-ro","title":"Chehra Ba Chehra Ro Ba Ro- چہرہ بچہرہ رو برو","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 143\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Novels\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e”چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو 1979 ء میں شائع ہوا۔ یہ ایران کی تاریخی شخصیت اور بابی تحریک کی ایک رکن رکین فاطمہ زریں قرۃ العین طاہرہ کی زندگی پر مشتمل ہے۔ اس میں ایران کے متوسط طبقے کی طرزِ زندگی کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ام سلمٰی یعنی قرۃ العین طاہرہ ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجمیلہ ہاشمی نے اپنے اس ناول میں ایک ایسی متنازعہ لیکن عظیم ہستی کو موضوع بنایا ہے جن کا نام آج تک خود ایک افسانہ ہے۔ ام سلمٰی جسے ہم قرۃ العین طاہرہ کے نام سے جانتے ہیں، ایک ایسی بے قرار روح کی مالک تھی جن کے پاس دل بھی بڑا اور دماغ بھی۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eقرۃ العین طاہرہ اصلاح نسواں کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنا چاہتی تھیں۔ وہ ایران میں حقوق نسواں پر بات کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے 1848ء میں بابی مذہب قبول کرنے سے 4 سال قبل حقوق نسواں اور عورت کے مرد کے برابر حقوق کی بات کی تھی ۔ وہ علی محمد باب پر ایمان لانے والے پہلے 18 لوگوں (جو بابی تاریخ میں “حروف حی“ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، میں سے واحد خاتون مبلغہ تھیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبابی کانفرنس میں انہوں نے بے نقاب شرکت کی ۔جس کے باعث اکثر لوگ اُن سے ناراض بھی ہوئے مگر علی محمد باب نے اُن کو”طاہرہ (پاک) “ کا لقب دیا ۔ بابیوں کے خلاف ایران میں مہم چلی اور باب کے ماننے والوں کا انجام دردناک ہوا ۔ قرۃ العین طاہرہ کو پہلے معافی مانگنے اور بابی مذہب چھوڑنے پر اکسایا گیا، جب وہ نہ مانیں تو قید کیا گیا پھر راتوں رات گلا گھونٹ کر ایک اندھے کنوئیں کی نظر کر دیا گیا ۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eوہ واقعی یہ ایسی روح ہیں جنہوں نے منزل کی جگہ راستہ قبول کیا ایک ایسا راستہ جو ان کا اپنا چُنا ہوا تھا ۔ وہ کسی کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر منزل تک جانے کے بجائے اپنے ہی بنائے ہوئے راستے پر بھٹکنے پر راضی رہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003cimg alt=\"????\" src=\"https:\/\/static.xx.fbcdn.net\/images\/emoji.php\/v9\/tf4\/1.5\/16\/1f6d1.png\" width=\"16\" height=\"16\"\u003e\u003c\/span\u003e اس ناول کا سرورق صادقین نے بنایا تھا ، اس اشاعت میں بھی اسی کو برقرار رکھا گیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Jamila Hashmi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":54944059130178,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/chehra-ba-chehra-ro-ba-ro.jpg?v=1782994306","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/chehra-ba-chehra-ro-ba-ro","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}