{"product_id":"gurezan","title":"Gurezan - گریزاں","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 184\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Poetry\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eظہیر فتحپوری کا پورا نام سیّد ظہیر حسنین عابدی تھا۔ 13 مئی 1928ء کو قصبہ ایرایاں سادات ضلع فتحپور ہَسوَہ (یُوپی) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1947ء تک زیادہ تر گوالیار میں قیام رہا۔ تقسیم ہوئی تو راولپنڈی آگئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 1956ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے اُردو کیا۔ 1963ء میں مجلس ترقّیِ ادب لاہور کے لیے مرزا رُسوا کا ناول ’’اُمرائو جان اَدا‘‘ مرتّب کیا۔ 1965ء میں ’’رُسوا کی ناول نگاری‘‘ بطورتھیسز پنجاب یونیورسٹی کو ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کی اور اسی ادبی کاوش پر آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ تدریسی شعبہ میں کچھ دن کے لیے چین کی پیکنگ یونیورسٹی بھی گئے، لیکن خرابیٔ صحت کے باعث وہاں زیادہ قیام نہ کرسکے اور جلد ہی وطن واپس آگئے۔ واپس آنے کے بعد زیادہ تر بیمار ہی رہے اور طویل علالت کے بعد 8 جولائی 1981ء کو راولپنڈی میں راہیِ مُلکِ بقا ہوئے۔ ڈاکٹر ظہیر فتحپوری کی جھولی علمی و فکری تمام اصنافِ سخن کے انمول جواہرات سے لبریز ہے۔ ان کے دیگر علمی کارناموں میں منتخب مراثیِ دبیر، رُسوا کی شاعری، رُسوا کی تنقید، پریم چند کا تنقیدی مطالعہ، اُردو شاعری کی جمالیاتی قدریں اور پریم چند کا نظریۂ حیات اور نظریۂ فن شامل ہیں۔ ان جواہر پاروں کے علاوہ شعرا اور ادیبوں پر ان کے متعدد مضامین رسالوں میں چھپ چکے ہیں۔ ادیب اور نقّاد ہونے کے ساتھ وہ اپنی ترپن سالہ زندگی کے میدانِ شاعری میں بھی ذہنی سفر کا قدیم تجربہ رکھتے تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام 1991ء میں ’’گُریزاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں اغلاط بہت تھیں۔ نامور شاعر اور ادیب محمد اظہار الحق نے اس مجموعے کو نئے سِرے سے ترتیب دے کر بلاشبہ ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ \u003cbr\u003eیہ دَھرتی بہت وسیع ہے۔ اِس میںبھانت بھانت کی مٹّی ہے، طرح طرح کا رنگ روپ ہے۔ میرے ملک اور میری سرزمین کی اپنی مہکار ہے، اپنے رنگ ہیں، اپنے پیکر ہیں۔ میری اِن غزلوں میں اپنے دیس کی بُو باس ہے۔ اِن میں جو آہنگ ہے اُس میں میرے مُلک کی ندیوں کا لہرائو ہے۔ یہ اپنی ڈیڑھ اِینٹ کی الگ مسجد بنانے کی شعوری کوشش نہیں بلکہ لاشعور کا فِطری بہائو ہے۔ اِس بہائو کی موسیقی میں جو رَس ہے وہ دیسی ہے، عجمیؔ یا مغرؔبی نہیں۔ تمام دُنیا کے انسان یکساں جذبے رکھتے ہیں، مگر اِظہار کے انداز جُدا جُدا ہیں، اِظہار کا فرق — سوچیے تو— مٹّی کا فرق ہے۔ میرے وطن پاکستان کی بھی اپنی شوبھا (Charm) ہے جو اَوروں سے مختلف اور منفرد ہے۔ باہر کی ہوائیں یہاں سے بھی گزرتی رہی ہیں۔ یہاں کے پھولوں، پتیوں پر ان کے اثرات پڑے ہیں۔ کچھ اثرات جزوِ چمن ہو گئے ہیں۔ ہمارے مزاج کا حصّہ بن گئے ہیں۔ وہ اَب ہمارے ہیں۔ مگر کچھ اَیسے بھی ہیں جن کے پھیر میں پڑ کر ہم اپنے جمالِ فن کے کئی زاویوں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ اِن غزلوں میں انہی زاویوں کو اُجاگر کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔\u003cbr\u003e(ظہیر فتحپوری)\u003cbr\u003eڈاکٹر ظہیر فتحپوری صاحب کی شاعری کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لکیر کے فقیر نہیں تھے۔ عام کلاسیکی بحور میں بھی ان کی غزلیں اور نظمیں جدّت لیے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا اصل کارنامہ ہندی بحور (ماتراوں) میں غزل کہنا ہے۔ ان سے پہلے اگر کسی نے یہ کام کیا بھی ہو تو اس سطح پر اور اس پیمانے پر شاید نہ کیا ہو۔ انھوں نے نہ صرف ہندی کے بحور اپنائے بلکہ لفظیات بھی وہ استعمال کیں جو مقامی کلچر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے چند اشعار دیکھیے:\u003cbr\u003eمگر جب سے اے سلونے تیری ادائوں کا بانکپن دیکھا ہے\u003cbr\u003eتو سچ مُچ بے قیدِ موسم ہم نے بہاروں کو خیمہ زن دیکھا ہے\u003cbr\u003e***\u003cbr\u003eحُسن کہ تھا سِیماب صفت ٹھہرا نہ چمن میں\u003cbr\u003eآن بسا کچھ تیرے تن کچھ میرے من میں\u003cbr\u003e***\u003cbr\u003eمِرے من موہن ترے مکھڑے پر کھلے بیلے کا سجیلا پن ہے\u003cbr\u003eنصیبہ اب کے بہت اترایا، تبسّم ہے یا کنول روشن ہے\u003cbr\u003e***\u003cbr\u003eجو بھید بن چھانو گے جو گیان سُکھ لوٹو گے\u003cbr\u003eپہیلیاں بُوجھو گے مگر کہاں بُوجھو گے\u003cbr\u003e(محمد اظہار الحق)\u003cbr\u003eظہیر فتحپوری نے یوں تو روایتی نظمیں اور غزلیں بھی کہی ہیں، مگر اُن کی جدّت پسند طبیعت کا جوہر ان کی مخصوص ہندی بحور والی غزلوں میں اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کی نظیر اس سے پہلے اور اس کے بعد ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی۔\u003cbr\u003eظہیرؔ کی وہ غزلیں جو انھوں نے ہندی بحور میں کہی ہیں اب تک اس پذیرائی سے محروم رہی ہیں جو ان کا حق تھا۔ اس کا ایک سبب شاید یہ بھی ہو کہ ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ اگر زندہ رہتے اور اس تجرباتی تسلسل میں مزید غزلیں تخلیق کرتے تو ہو سکتا ہے وہ اپنے عہد کے نقّادوں کی توجّہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتے مگر ان کی شاعرانہ شخصیت کے اس رُخ نے محدود حلقہ میں کسی حد تک اثر ضرور ڈالا۔\u003cbr\u003eہمیں یقین ہے کہ مستقبل کا ادبی نقّاد جب اُردو غزل کے ارتقا اور اس سلسلہ میں تجربات کی بات کرے گا تو وہ ظہیرؔ کی ان غزلوں کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ ؎ عشق میں یوں تو کس نے کیا پایا ہے مگر اے جانِ ظہیرؔ\u003cbr\u003eتجھ کو ہمیشہ یاد رہے گا میرا یہ اندازِ سخن\u003cbr\u003e(ڈاکٹر توصیف تبسم) \u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Zaheer Fatehpuri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":56233156182338,"sku":null,"price":1450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/gurezan.jpg?v=1790083113","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/gurezan","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}