{"product_id":"jane-eyre-urdu-translation","title":"Jane Eyre (Urdu Translation) - جین آئر","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e343\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eNovel\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eعام طور پر ہر ناول کے واقعات ایک خاص کلائمکس کی طرف تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کلائمکس پر ناول کی دلچسپی اپنے انتہا پر پہنچی ہوتی ہے اور قاری اس میں پوری طرح ڈوبا ہوتا ہے۔ لیکن ’’جین آئر‘‘ میں محض ایک کلائمکس نہیں۔ اس میں تین واضح کلائمکس ہیں جو قاری کی توجہ اور استغراق پر پوری کمانڈ رکھتے ہیں۔ایسا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور یہ مہارت بہت کم مصنّفین کو حاصل ہوئی ہے۔ ’’جین آئر‘‘ سے پہلے شارلٹ برانٹے کا لکھا ہوا ایک مسودہ انگلستان کے ایک ممتاز پبلشر کی توجہ حاصل نہ کر سکا کیونکہ مصنفہ ایک ’گمنام‘ لڑکی تھی۔ لیکن جب ’’جین آئر‘‘ کا مسودہ اُس کے پاس پہنچا تو اگرچہ اُس نے بےدِلی سے پڑھنا شروع کیا لیکن وہ اس میں اس حد تک ڈوب گیا کہ اس نے اگلے چوبیس گھنٹوں کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور ایک ہی نشست میں پورا ناول پڑھ ڈالا۔ نتیجۃً یہ لافانی شاہکار شائع ہوا اور شارلٹ برانٹے گمنامی سے نکل کر شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی۔ پھر اس کا وہ ناول بھی طمطراق سے شائع ہوا جو پہلے پبلشر کو پسند نہ آیا تھا۔ - سیّد قاسم محمود\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاب تک شاندار انداز میں لکھے گئے ناولوں میں سے ایک!\u003cbr\u003e- سارہ واٹرز\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eناول کےآخر میں ہم شارلٹ برانٹے کی قابلیت، شدتِ جذبات اور \u003cbr\u003eغیر منصفانہ روّیوں پر اس کی برہمی میں ڈوب جاتے ہیں۔\u003cbr\u003e- ورجینیا وُولف \u003cbr\u003e\u003cbr\u003eفکشن کی دُنیا میں ’’جین آئر‘‘واحد اعلیٰ ترین کردار ہے۔ ذرا دیکھیے تو، اگرچہ وہ جین نام کی طرح سیدھی سادی ہے مگر اسے اپنی قدروقیمت، ذہانت اور قوتِ فیصلہ کا مکمل ادراک ہے۔ وہ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار رکھتی ہے۔ اتنی جرأت مند ہے کہ جبر اور ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی غلط کام کرنے کی بجائے وہ بیابانوں میں اکیلے چلے جانے اور موت قبول کرنے کوبھی تیار ہے۔ کیا شاندار ناول ہے ! کیاشاندار لڑکی ہے!\u003cbr\u003e- سُوزن آئزک\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eیتیم جین کا بچپن خوش گوار نہیں ہے مگر اس کے کردار کی مضبوطی اور جرأت اسے ظالم ممانی اور سخت گیر سکول کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت دیے رکھتے ہیں۔ تاہم اس کی زندگی کا سب سے سخت مرحلہ ابھی آنا باقی ہے۔ ایک پُراسرار گھر میں گورنس کی نوکری کے بعد گھر کے مالک سے جذباتی وابستگی بالآخر جین کو مجبور کرتی ہے کہ \u003cbr\u003eوہ اپنے نظریات اور جذبات میں سے کسی ایک کو قربان کر دے....کیا جین کو محبّت کی خاطر اپنے حالات \u003cbr\u003eسے سمجھوتا کرلینا چاہیے؟ یا اپنے ماضی کی طرح اب بھی وہ حالات سے مقابلہ جاری رکھے؟ \u003cbr\u003e-ایڈیٹر\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eناول نگار:\u003cbr\u003eشارلٹ برانٹے (21 اپریل 1816ء - 31 مارچ 1855ء) مشہور برطانوی مصنفہ، اپنے ناول ’’جین آئر‘‘ کی وجہ سے عالمی شہرت کی حامل، برانٹے سسٹرز\u003cbr\u003eمیں سب سے بڑی بہن، باپ پیٹرک برانٹے پادری تھا، ماں بچپن میں ہی گزر گئی، پرورش باپ اور خالہ( الزبتھ) نے مل کر کی۔ 1824ء میں لنکاشائر کے ایک سکول میں اپنی بہنوں کے ہمراہ داخلہ لیا۔ یہی سکول بعد میں ’’جین آئر‘‘ میں مذکور ’’لوؤڈ سکول‘‘ کی بنیاد بنا۔ ایک سال بعد وبا پھیلی تو سکول چھوڑ کر واپس یارک شائر میں اپنے گاؤں ہاوَرتھ چلی آئی جہاں والد نے گھر پر ہی بچیوں کی تعلیم کا انتظام کر دیا۔ یوں برانٹے سسٹرز کے مل کر پڑھنے اور کہانیاں لکھنےکا آغاز ہوا۔ 1825ء میں دوبڑی بہنوں (ماریا اور الزبتھ) کا وبا کے باعث انتقال ہو گیا۔ وبا ختم ہوئی تو شارلٹ کو رَوہیڈ کے سکول میں بھیجا گیا جہاں کچھ عرصہ بعد اس نےبطور ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا مگر سکول میں حفظانِ صحت کے ناقص حالات نے جلد ہی اسے سخت بیمار کر دیا اور یوں ملازمت ترک کرنی پڑی۔ بھائی برانوَل نے اپنے آرٹ کے شوق اور نشے کی لت میں برانٹے گھرانے کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا، مجبوراً شارلٹ کو ایک جگہ گورنس کا کام کرنا پڑا اور برانٹے سسٹرز کا اپنا سکول بنانے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔ خالہ کو جب علم ہوا تو اپنی تمام جمع پونجی اس کام کے لیے پیش کر دی۔ سکول کی خشتِ اوّل کے طور پر شارلٹ اور ایملی، فرنچ اور جرمن زبانیں سیکھنے برسلز پہنچیں۔ اس قیام کے دوران شارلٹ کو صحیح معنوں میں اپنی ذات کی شناخت کا موقع ملا جس کا نتیجہ بعد ازاں ’’جین آئر‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ وطن واپسی ہوئی، سکول کا آغاز کیا مگر چھوٹا قصبہ ہونے کے باعث سکول بند کرنا پڑا، یوں برانٹے سسٹرز کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شارلٹ کی بہنیں چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز ان کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ جس کےبعد تینوں برانٹے سسٹرز نے اپنا شعری مجموعہ فرضی ناموں سے شائع کروایا۔ یہ شعری مجموعہ بھی سکول کی طرح ناکام ہوگیا۔ مگران بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی جانب متوجہ ہوئیں۔ یوں 1847ء میں ’’جین آئر‘‘ کا ظہور ہوا جو چھپنے کے فوراً بعد زبردست مقبول ہوگیا۔ مگر اس ناول کی اشاعت کے بعد شارلٹ کی زندگی میں خوشیاں کم ہی رہیں۔ جوان بھائی برانوَل کی موت ہوئی تو تین ماہ بعد جوان بہن ایملی بھی بھائی کے پیچھے چل دی۔ اگلے سال سب سے چھوٹی بہن این بھی گزر گئی۔ شارلٹ تو بالکل تنہا رہ گئی۔ رشتوں سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر ایک سیدھے سادے شخص کےساتھ اپنی پسند کی شادی میں منسلک ہو گئی۔ کچھ ماہ بعد ناول ’’ایما‘‘ کا آغاز کیا، مگر قدرت کو اس ناول کی تکمیل منظور نہ تھی۔ شارلٹ دورانِ زچگی اپنی 39ویں سالگرہ سے تین ہفتے پہلے اس دُنیا سے رخصت ہو گئی۔ ’’جین آئر‘‘ کے علاوہ ’’شرلی‘‘،’’وِیلیٹ‘‘،’’دِی پروفیسر‘‘ اور نامکمل ناول ’’ایما‘‘ شارلٹ کی یادگاریں ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eمترجم:\u003cbr\u003eسیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔ \u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Charlotte Bronte","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52956896231746,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/jane-eyre-in-urdu-3.jpg?v=1776969323","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/jane-eyre-urdu-translation","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}