{"product_id":"khaki-files","title":"Khaki Files- خاکی فائلز (فراڈ سے دہشت گردی تک)","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages:\u003c\/strong\u003e 203\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory:\u003c\/strong\u003e Short Stories\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eKHAKHI FILES\u003cbr\u003eخاکی فائلز\u003cbr\u003eفراڈ سے دہشت گردی تک\u003cbr\u003eInside Stories of Police Investagations\u003cbr\u003eنیرج کمار (سابق ڈائریکٹر سی بی آئی، سابق پولیس کمشنر دہلی)\u003cbr\u003eترجمہ : وسیم شیخ\u003cbr\u003eایسی نایاب کتاب جو پولیس اور انٹیلی جنس کے اندرونی نظام، سنسنی خیز جرائم اور تحقیقات کی دنیا کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے جو عام طور پر عام شہریوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس کتاب میں لشکر طیبہ ، پارلیمنٹ حملہ کیس، انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف آپریشنزاور دل دہلا دینے والے دہشت گردی سے جڑے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اس لئے یہ کتاب ایک ایسا چشم کشا بیانیہ ہے جو ہمیں انٹیلی جنس اور پولیس کے اس نظام میں لے جاتاہے جو عام شہری کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل رہتا ہے۔ یہ صرف جرائم کی فہرست نہیں بلکہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جہاں مجرم، قانون، سماج اور انسان ایک دوسرے سے جُڑے نظر آتے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے کیسز صرف سنسنی خیز نہیں بلکہ تہہ در تہہ پیچیدگیوں سے بھرپور ہیں۔ ہر کیس کے پیچھے ایک کہانی ہے، ایک انسان ہے، ایک نظام ہے — اور بعض اوقات ایک ایسا اندھیرا بھی ہے جو کئی سوالات چھوڑ جاتا ہے۔ نیرج کمار نے ان واقعات کو نہایت دیانت داری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ جہاں اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں، وہیں ناکامیوں، مشکلات، سیاسی دباؤ، اور نظامی خامیوں کو بھی نہیں چھپاتے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس کتاب کو ایک سچی، بے لاگ اور فکری تحریر بناتا ہے۔ کتاب میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جہاں بعض کیسز میں ریاستی مداخلت، میڈیا کا دباؤ، یا سیاسی پیچیدگیوں نے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ مگر کچھ ایسے لمحے بھی ہیں جو امید دلاتے ہیں کہ سچائی، جتنی بھی مشکل ہو، بالآخر سامنے آتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e…………………………….\u003cbr\u003eکتاب سے اقتباس\u003cbr\u003eہم نے جن خطرناک ای میلز کا سامنا کیا تھا، ان ای میلز کے تبادلے کے مواد میں ایک اور مماثلت دیکھی گئی۔ ای میلز کو اس طرح ظاہر کرنے کے لئے بنایا گیا تھا جیسے وہ انگریزی میں محبت کے خطوط ہوں۔ ای میل بھیجنے والے اور وصول کنندہ کے درمیان اصل بات چیت ، جو رومن زبان میں لکھی گئی تھی ، ڈاک کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔\u003cbr\u003eمثال کے طور پر 11 فروری کو rashid32XXXX@hotmail.com سے stupaXX@hotmail.com کو بھیجی گئی ایک ای میل میں لکھا تھا:\u003cbr\u003e’’پیاری ڈارلنگ! میں جلد ہی تمہارے پاس آ رہا ہوں۔براہ مہربانی میرا انتظار کریں۔ہماری شادی میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ تم میرے پاس آؤ گی اور میں تمہاری گود میں تمہارے پاس آؤں گا۔ براہ مہربانی مجھے لے جاؤ اور مجھے ہمیشہ کے لئے رکھو۔\u003cbr\u003eپیارے بھائی مزمل! اسلام علیکم ، آپ کا پیغام میلا۔ میں اس آدمی سے مل لوں گا ۔ اس کا نمبر ا بھی سوئچ آف ہے۔ تھوڈی دیرمیں پھر ٹرائی کرتا ہوں۔کام کے بعد آپ کو مطلع کروں گا۔ آپ کا بھائی\u003cbr\u003eکام کے لئے بہت بہت شکریہ. میں بہت خوش ہوں کہ ہم ایک ساتھ ہیں اور ہم اپنی باقی زندگی ایک ساتھ رہیں گے۔ کوئی بھی ہمیں جدا نہیں کر سکتا اور ہم ہمیشہ کے لئے ایک ہیں۔\u003cbr\u003e7 فروری کو rashid32XXXX@hotmail.com سے stupaXX@hotmail.com کو بھیجی گئی ایک اور ای میل میں لکھا تھا:\u003cbr\u003e’’پیاری ڈارلنگ ۔ میں بہت خوش ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور تم میرے لئے بنائی گئی ہو۔‘‘\u003cbr\u003eایک اور ای میل میں لکھا تھا۔\u003cbr\u003eمحترم بھائی مزمل\u003cbr\u003eاسلام علیکم!یہ کالج والا علاقہ ہے۔ بھیڑ بھاڑ میں ہے۔ سب ٹھیک ہے۔ اور کوئی بات ہو گی تو پیغام بھیج دینا۔چاچا جی کو سلام عرض کرنا۔\u003cbr\u003e( میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ اگر تم میری زندگی میں نہیں ہو گی تو میں مر جاؤں گا۔ میں آپ کے لئے ہر روز پھول لاؤں گا۔ میں تمہیں بہت پیار دوں گا۔‘‘\u003cbr\u003eاس سے قبل چار مختلف سائبر کیفے سے بھیجی گئی چار دیگر ای میلز یعنی 28 جنوری، یکم فروری، 3 فروری اور 5 فروری 2003 کو بھیجی گئی تھیں۔ تاہم پیسے کی منتقلی، چھپنے کی جگہوں کو کرائے پر لینے اور ایک’’ چاچا جی‘‘ (جو ممکنہ طور پر لشکر طیبہ کے ایک سرکردہ رہنما اور کشمیر میں آپریشنز کے سپریم کمانڈر ذکی الرحمٰن لکھوی تھے) کا ذکر پریشان کن تھا۔ ان پیغامات میں دہلی یا اس کے آس پاس ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے اشارے چھپے ہوئے تھے۔ اس حربے کے پیچھے خیال یہ تھا کہ اگر ای میلز کو روکا جاتا ہے تو انہیں بے ضرر محبت کے خطوط کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک طریقہ کار ہے جو اکثر دہشت گرد گروہوں کی طرف سے اپنایا جاتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Neeraj Kumar (CBI)","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":55116465897794,"sku":null,"price":1300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/khaki-files.jpg?v=1784812831","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/khaki-files","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}