{"product_id":"na-khuda","title":"Na Khuda - ناخدا","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e652\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eNovels\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eاُردو کے مایۂ ناز گیت نگار، فسانہ ساز اسد محمد خاں کا پورٹ ٹرسٹ کی ملازمت سے نمٹ کے سب رنگ کے دفتر آ جانا معمول تھا۔ ایسے شامل تھے کہ ادارے کے رکن ہی معلوم ہوتے تھے۔ کہانیوں کے انتخاب میں اُن کی بھی رائے لی جاتی تھی۔ ان سے بھی التجا کی جاتی رہی کہ سب رنگ کے لیے کوئی ناول لکھیں تو کیا خوب ہو۔ شوکت صدیقی کی طرح وہ بھی پس و پیش کرتے رہے اور کئی برس کے اصرار کے بعد آخر پس پا ہو گئے اور ’’ناخدا‘‘ کے عنوان سے طویل سرگزشت کا آغاز کیا۔ ناخدا — ایک بے زمیں، بے آسماں آدم زاد کی کہانی، وہ صحراؤں، سمندروں، بیابانوں اور اِنسانوں سے نبرد آزما تھا۔ ’باسودے کی مریم‘، ’بُرجِ خموشاں‘ اور ’کھڑکی بھر آسماں‘ کے خالق، صاحبِ خیال، صاحبِ طرز، نقش پرداز، داستاں کار اسد محمد خاں کا اندازِ بیاں ان کا اپنا ہے، سب رنگ کے قارئین ہی صحیح بتا سکیں گے کہ ’’ناخدا‘‘ کی اگلی قسط کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ اور اب قسطوں کا انتظار ختم، بک کارنر جہلم کے برادران گگن اور امر شاہد نے پورا ناول شائع کر کے اُردو کے ناقابلِ فراموش ناولوں کی فہرست میں ایک اور ناول کا اضافہ کردیا ہے۔ فسانۂ ناخدا کی اثرآفرینی و دل کشی اپنی جگہ، اسد بھائی کا منفرد طرزِ نگارش اور دلیرانہ بے باکانہ اسلوب مستزاد ہے ۔ (شکیل عادل زادہ) \u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Asad Muhammad Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":51652063330626,"sku":null,"price":2250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/na-khuda.jpg?v=1765024338","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/na-khuda","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}