{"product_id":"saay-ki-zindghi","title":"Saay Ki Zindghi - سائے کی زندگی","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e224\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eBiography, Politics Books\u003c\/p\u003e\n\u003ch3\u003eUrdu Translation of A Life In The Shadows\u003c\/h3\u003e\n\u003ch3\u003eTranslated By Waseem Sheikh\u003c\/h3\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e\u003cbr\u003eانڈین انٹیلی جنس ایجنسی را کے سابق سربراہ کی غیرمعمولی اور انوکھی یاداشتیں\u003cbr\u003eمصنف : اے ایس دلت\u003cbr\u003eسابق سربراہ را \u003cbr\u003eاس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جاسوس کی زندگی سائے میں گزرتی ہے۔ اب تک کسی بھی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے ایسی یادداشتیں نہیں لکھی ہیں۔را کے سربراہ اے ایس دلت نے اپنی اِس کتاب میں پہلی باررازداری کو توڑا ہے۔ یہ ایک روایتی لکیری بیانیہ نہیں ہے بلکہ اُنہوں نےجاسوسی کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے جگہ اور وقت سےلاجواب واقعات کا انتخاب کیا ہے۔ لاہور اور نئی دہلی میں تقسیم کے خون آلود واقعات، بچپن سے لے کر ایک نوجوان انٹیلی جنس افسر کی حیثیت سے نارتھ بلاک میںا پنے ابتدائی سالوں کے حالات ،ٹاپ انٹیلی جنس آپریشنز ،بین الاقوامی جاسوسوں کے ساتھ ملاقاتوں سے لے کر دنیا بھر کے سفر ،کشمیر کے سیاسی اور ذاتی مشاہدات سے لے کر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنے کچھ دلچسپ تجربات پیش کئے ہیں۔دلت نے بھوپال سے نیپال، کشمیر سے پاکستان اور چین تک کے واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے بھارت کا ٹاپ سپائی ماسٹر بننے کی اور اپنی زندگی کی کہانی غیر معمولی ایمانداری، دیانت داری اور ذہانت کے ساتھ بیان کی ہے۔اے ایس دلت سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں ، کشمیر: دی واجپائی ایئرز، دی اسپائی کرونیکلزکے مصنف بھی ہیں۔دلت کے ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر کے بارے میں خیالات مشہور ہیں۔\u003cbr\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003cbr\u003eآئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل اسد درانی کے ساتھ بات چیت پر مشتمل کتاب شائع ہونے کے بعد ہماری ٹریک میٹنگز بھی ہوئیں۔ اجیت ڈوول کے یہ گروپ چھوڑنے کے بعد ٹریک ڈپلومیسی کے تحت بھارت اور پاکستان کےانٹیلی جنس افسران کی ایک میٹنگ ہوئی۔ پاکستان کے انٹیلی جنس افسران نے شکایت کی کہ کچھ نہیں ہو رہا۔ دونوں طرف بات چیت میں ایک تعطل ہے۔\u003cbr\u003eمیں نے کہا:’’میں آپ کے جذبے کو سمجھتا ہوں۔ میں ایک تجاویز دینا چاہتا ہوں۔ آپ کیوں نہ ڈوول کو لاہور آنے کے لئے کہہ دیں؟‘‘ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ترین جنرل احسان الحق کی طرف سےردعمل آیا کہ’’ یہ ایک اچھا خیال ہے، لیکن اگر دعوت نامہ بھیجا اور وہ پھر بھی نہیں آیا؟‘‘ ’’ٹھیک ہے۔کے ایم سنگھ اُن کے بیج میٹ ہیں، وہ یہاں ہے۔ وہ چیک کر سکتا ہے۔\u003cbr\u003eکے ایم سنگھ نے یہی کیا اور اگلی میٹنگ میںاُس نے اطلاع دی:\u003cbr\u003e‘’’اجیت انکار نہیں کرے گا۔وہ لاہور آ کر خوش ہوں گے۔‘‘\u003cbr\u003eوہ دعوت نامہ کبھی نہیں آیا۔ اِس طرح پاکستان جو ہمیشہ ہم پر کچھ نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے، کئی مواقع پر بالکل خاموش ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ڈوول جو کبھی تعلقات میں دلچسپی رکھتے تھے، اب وہ یہ رویہ مکمل طور پر ترک چکے ہیں۔ اُن کو بات چیت سے کچھ لینا دینا نہیں، ان کی توجہ مضبوطی پر ہے، سختی پر ہے اور یہ یقینی بنانے پر ہے کہ اہداف پورے کئے جائیں۔\u003cbr\u003eاجیت ڈوول دشمن پر یقین رکھتے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ دشمن ( پاکستان) کوتین سطحوں پر مشغول رکھنا چاہئے-\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003e1:دفاع\u003cbr\u003e2:  دفاعی اور   جارحانہ\u003cbr\u003e3:جارحانہ\u003cbr\u003eاجیت ڈوول کی رائے کے مطابق بھارت کو اب مزید اپنے جغرافیائی موقف کے بارے میں دفاعی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔بھارت میں اب دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ یہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت کو اعلیٰ ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس پر مبنی خفیہ آپریشنز کا استعمال کرنا چاہیے تا کہ در اندازی کو روکا جا سکے۔اِس کے علاوہ جہاں بھی ممکن ہو،ایسی تنظیموں کو پیسے، ہتھیار اور افرادی قوت کے ذریعے خرید لیا جائے۔ ان تمام تصورات میں اخلاقیت کو بہت پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور فوجی طاقت اور اِس کے اجزا کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا جاتا ہے۔ \u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"A S Dulat","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":54840436228418,"sku":null,"price":1350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/saay-ki-zindghi.jpg?v=1782137884","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/saay-ki-zindghi","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}