{"product_id":"sharah-khasais-e-ali-in-urdu","title":"Sharah Khasais e Ali (In Urdu) - شرح خصائص علیؓ","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages: \u003c\/strong\u003e1096\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eCategory: \u003c\/strong\u003eIslam\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eمترجم -تشریح - تحقیق: علامہ قاری ظہور احمد فیضی\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eامام نسائی جب مصر سے رملہ اور وہاں سے دمشق پہنچے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ بنو امیہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے خارجی اور ناصبی اثرات سے متاثر ہیں، حضرت علیؓ کی کھلم کھلا تنقیص کی جاتی ہے، چنانچہ ان کے فضائل میں ایک جامع کتاب لکھنے کا ارادہ کیا اور اسے جامع دمشق میں سنانا شروع کیا، لیکن لوگ برداشت نہ کر سکے اور یہی کتاب امام نسائی کی شہادت کی وجہ بنی۔ \u003cbr\u003eجیسا کہ اس کتاب کے مؤلف احمد بن شعیب نسائی خود صراحت کرتے ہیں: \u003cbr\u003e\"میں جب دمشق پہنچا تو وہاں دیکھا کہ ایک بڑی تعداد علی بن ابی طالبؓ سے منحرف ہے، چنانچہ میں نے یہ کتاب تالیف کی، اس امید کے ساتھ کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے گا۔\"\u003cbr\u003eائمہ کی نظر میں\u003cbr\u003eابن حجر عسقلانی اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں:\u003cbr\u003e\"امام نسائی نے اس کتاب میں حضرت علی ؓکے تعلق سے خصائص و فضائل کو تحقیق و جستجو کے ساتھ لکھا ہے، چنانچہ اس تعلق سے اس میں بہت کچھ جمع کر دیا ہے، اور اکثر باتیں جید الاسناد یعنی بہترین اور صحیح سندوں کے ساتھ ہیں۔ \"\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eکتاب کی مقبولیت و اشاعت:\u003cbr\u003eاس کتاب کو مسلمانوں اہل سنت و اہل تشیع ہر ایک کے یہاں بہت شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور سنہ 1303 ہجری سے 1404 ہجری تک کے سو سالہ عرصہ میں بیروت، نجف، قاہرہ، دہلی اور لاہور سے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔\u003cbr\u003eاس کتاب کا شرح خصائص علی کے عنوان سے ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ علامہ ظہور احمد فیضی نے اس کتاب کے ترجمہ کے ساتھ ساتھ تخریج،تحقیق اور تشریح بھی کی ہے جو کہ 1096صفحات پرمشتمل ہے ۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right; font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Lahori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Nafees Web Naskh, Urdu Naskh Asiatype, Arial, Tahoma; font-size: 19px; line-height: 31px; direction: rtl;\"\u003eچند خصوصیات :\u003cbr\u003eمکمل عربی متن مع سند\u003cbr\u003eسابقہ عربی طبعات کی غلطیوں کی اصلاح\u003cbr\u003eہر حدیث کی مکمل تخریج وتشریح\u003cbr\u003eسند کے لحاظ سے علماء اصول حدیث سے ہر حدیث پر حکم\u003cbr\u003eہر حدیث پر وارد ہونے والے تمام اعتراضات کامتین جواب\u003cbr\u003eمصنف ( امام نسائی  ) کے قائم فرمودہ عنوانات کی روشنی میں خصوصیات مرتضوی\u003cbr\u003eمتن میں مذکور چین پاک ا کا تعارف اور ان کے اہم فضائل و خصائص\u003cbr\u003eجد ید وقدیم تمام ناصی اعتراضات کا انتہائی علمی اور مہذب رد\u003cbr\u003eعلماء ومشائخ اہل سنت دامت برکاتہم کی گرانقد رتقریظات\u003cbr\u003eپانچ سو سے زائد مآخذ ومراجع ( کتابیات کی فہرست مع سنہ طباعت اور مطبع وغیرہ \u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Imam Nisai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":54017012662594,"sku":null,"price":3750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0821\/2103\/2002\/files\/sharah-khasais-e-ali.jpg?v=1779650497","url":"https:\/\/www.booksparadise.pk\/products\/sharah-khasais-e-ali-in-urdu","provider":"Books Paradise","version":"1.0","type":"link"}