Skip to product information
1 of 3

Atom Bomb Ki Chori - ایٹم بم کی چوری

Atom Bomb Ki Chori - ایٹم بم کی چوری

Regular price Rs.750
Regular price Rs.990 Sale price Rs.750
24% OFF Sold out
Shipping calculated at checkout.

Writer: Mehmood Ahmed Moodi

Pages: 230

Category: Novel, Spy Novel

Urdu Translation of Thunderball By Ian Fleming

Translated By Mehmood Ahmed Moodi

آئن فلیمنگ کی جیمز بانڈ سیریز کا ایک اور تہلکہ خیز ناول

ایک جھلک

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی جوئے کی ایک طویل بازی ہے۔

ان دنوں جیمز بانڈ بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہا تھا۔ اس کے محسوسات کچھ عجیب سے ہو چکے تھے ... اسے اپنے آپ پر ... اپنی زندگی پر شرم سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس سے پہلے شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو۔ اس کے محسوسات میں اس تبدیلی کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ ان دنوں اس کے معمولات بھی کچھ عجیب سے ہو چکے تھے۔

وہ راتوں کی دیر تک باہر رہتا تھا۔ پینا پلانا زیادہ ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی میں بھی اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کیفیت سے پیچھا چھڑانے کا کوئی طریقہ اس کی سمجھ میں نہ آتا ... اور اگر سمجھ میں آتا تو اسے اختیار کرنے کو اس کا جی نہ چاہتا ... چنانچہ صبح یا دن چڑھے بیدار ہونے پر وہ بیزاری اور کسلمندی کی اس کیفیت میں ایک سگریٹ اور سلگا لیتا جس کا ایک کش لیتے ہی اس کا سر گھوم جاتا اور آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے دائرے رقص کرنے لگتے۔ جب حالت کچھ بہتر ہوتی تو وہ ناشتہ کرنے کی کوشش کرتا۔

ان دنوں وہ کیسینو میں بھی اکثر جانے لگا تھا اور زیادہ تر ہارتا ہی تھا۔ شاید اس کے نفسیاتی اثر سے بھی طبیعت کی درماندگی میں اضافہ ہوتا تھا۔ اس روز بھی وہ اسی کیفیت میں واش بیسن کے سامنے کھڑا شیو بنا رہا تھا تو اس نے اپنی ٹھوڑی پر کٹ بھی لگا لیا۔ اسے اپنے اوپر اور بھی غصہ آیا۔

اس نے غصے اور جھنجھلاہٹ میں آئینے میں اپنے عکس کی طرف دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے کسی اور کا عکس ہو۔ خود اپنی صورت بھی اسے اجنبی سی لگ رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی تھکا ماندہ، پریشان حال آدمی احمقانہ سے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

جیمز بانڈ کے خیال میں اس کے معمولات کی اس خرابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں اس کے پاس کوئی خاص کام نہیں تھا۔ دفتر میں اس کا تمام وقت غیر اہم سی کاغذی کارروائیوں میں گزرتا تھا۔ اوپر سے اس کی سیکرٹری فلو میں مبتلا ہونے کی وجہ سے چھٹی پر چلی گئی تھی۔ اس کی جگہ ایک عمر رسیدہ سی سیکرٹری اس کے ساتھ نتھی کر دی گئی تھی جو عام طور پر کچھ نہ کچھ چباتی رہتی تھی اور اسی دوران بات بھی کرتی تھی۔ جیمز بانڈ کو وہ ویسے ہی بری لگتی تھی۔ کچھ چبانے کے دوران بات کرتے ہوئے تو اور بھی بری لگتی تھی۔

تہذیب و ترجمہ: محمود احمد مودی

View full details