Skip to product information
1 of 3

Inkar Say Istarey Tak - انکار سے استعارے تک

Inkar Say Istarey Tak - انکار سے استعارے تک

Regular price Rs.1,850
Regular price Rs.2,500 Sale price Rs.1,850
26% OFF Sold out
Shipping calculated at checkout.

Writer: Shoaib Mazni

Pages: 410

Category: Islam, History Books

انکار سے استعارے تک: قیام حسین ابن علیؓ کے موضوع پر محدثانہ اسلوب تحقیق سے مزین پہلی کتاب

انکار سے استعارے تک: کربلا کے معاصر مباحث میں ایک اہم علمی اضافہ
ایک طالب علم کے تاثرات
کچھ کتابوں کی اشاعت محض ایک نئی تصنیف کی آمد نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل علمی سفر کی تکمیل اور برسوں کی فکری ریاضت کا اعلان ہوتی ہے۔ ہمارے عزیز دوست، رفیقِ درس اور سنجیدہ محقق جناب مفتی محمد شعیب مزنی صاحب کی کتاب "انکار سے استعارے تک" میرے لیے ایسی ہی ایک کتاب ہے۔
اس کتاب کا تذکرہ میں گزشتہ کئی برسوں سے سنتا آرہا تھا۔ کبھی کسی نئی روایت کی تحقیق کا ذکر ہوتا، کبھی کسی قدیم ماخذ کی تلاش کا، اور کبھی واقعۂ کربلا سے متعلق کسی معروف تاریخی دعوے پر مصنف کے نئے زاویۂ نظر کی بات سامنے آتی۔ اس لیے جب کتاب کی اشاعت کی خبر ملی تو اسے حاصل کرنے اور پڑھنے کا اشتیاق ایک عام قاری کے اشتیاق سے کہیں زیادہ تھا۔ کتاب موصول ہوئی تو دیگر مصروفیات کے باوجود کوشش کی کہ جلد از جلد اس کا مطالعہ مکمل کیا جائے۔ چنانچہ تقریباً ایک ہفتے تک مسلسل کتاب کے ساتھ وقت گزارا اور اس کے مختلف ابواب کو بار بار دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
اس اشتیاق کی ایک وجہ ذاتی بھی تھی۔ راقم گزشتہ چند برسوں سے قیامِ امام حسین، خروج علی الحاکم، اسلامی سیاسی فکر اور قدیم و جدید شیعہ و سنی تعبیرات کے موضوع پر تحقیقی کام کر رہا ہے۔ اس لیے کتاب کے اکثر مباحث براہِ راست ہمارے علمی دلچسپی کے دائرے میں آتے تھے۔ یوں اس کتاب کا مطالعہ محض ایک قاری کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے طالب علم کی حیثیت سے کیا گیا جو خود بھی انہی سوالات کے گرد اپنی علمی زندگی کا ایک حصہ صرف کر رہا ہے۔
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کے ان چند واقعات میں سے ہے جو محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ آج بھی زندہ فکری، دینی اور سیاسی مباحث کا حصہ ہیں۔ اس واقعے کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین نے اپنی جان قربان کی، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے اسلامی سیاسی فکر، اقتدار کی مشروعیت، ظلم کے خلاف مزاحمت، اطاعت و خروج، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اصلاحِ امت جیسے بنیادی سوالات کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور نے کربلا کو اپنے سوالات، اپنے فکری رجحانات اور اپنے سیاسی تناظر کے مطابق سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
کربلا پر لکھی جانے والی کتابیں دراصل صرف تاریخ کی کتابیں نہیں ہوتیں؛ وہ اپنے اپنے زمانے کے فکری رجحانات کی عکاس بھی ہوتی ہیں۔ کسی دور میں کربلا عقیدت کا استعارہ بنتی ہے، کسی دور میں انقلاب کا، کسی دور میں مظلومیت کا، اور کسی دور میں سیاسی حکمت و مصلحت کے مباحث کا مرکز۔ عصرِ حاضر میں بھی یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف وہ رجحانات ہیں جو واقعۂ کربلا کی بعض بنیادی تفصیلات یا اس کی تاریخی اہمیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ تعبیرات ہیں جو اسے خالص جذباتی اور فوق التاریخی سانچے میں ڈھال دیتی ہیں۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک ایسے علمی مطالعے کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے جو نہ عقیدت سے فرار اختیار کرے اور نہ تحقیق سے۔
ہمارے خیال میں "انکار سے استعارے تک" کی بنیادی اہمیت یہی ہے کہ یہ کتاب اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
کتاب کا عنوان بھی خاص توجہ کا مستحق ہے۔ ’’انکار‘‘ اور ’’استعارہ‘‘ دراصل معاصر عہد میں واقعۂ کربلا کے گرد پیدا ہونے والے دو انتہاؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ رجحانات ہیں جو مختلف تاریخی یا عقلی بنیادوں پر اس واقعے کی بعض بنیادی جہات کو مشتبہ یا غیر اہم بنا دینا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ تعبیرات ہیں جو تاریخ کی ٹھوس زمین سے اٹھا کر اسے محض علامت، استعارے یا جذباتی بیانیے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ مصنف کی کوشش یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک ایسا علمی راستہ اختیار کیا جائے جو معتبر روایت، تاریخی تحقیق اور اصولی تنقید پر قائم ہو۔
اس کتاب کو دیگر تصنیفات سے ممتاز کرنے والی پہلی چیز اس کا منہجِ تحقیق ہے۔ ہمارے ہاں واقعۂ کربلا پر لکھی جانے والی اکثر کتابیں یا تو روایتی تاریخی بیانیے پر مشتمل ہوتی ہیں یا عقیدتی اور مناظرانہ اسلوب اختیار کرتی ہیں، لیکن شعیب مزنی صاحب نے اس موضوع کو محدثانہ اصولِ تحقیق کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ فہرستِ مضامین پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ مصنف نے براہِ راست کربلا کے واقعات پر گفتگو شروع نہیں کی بلکہ پہلے تاریخ، روایت، درایت، جرح و تعدیل، اخبارِ آحاد، اہلِ بدعت کی روایات، تاریخی نقد اور تحقیق کے اصولوں پر مفصل بحث کی ہے۔ یہ طریقۂ کار اس لیے اہم ہے کہ نتائج تک پہنچنے سے پہلے قاری کو ان علمی بنیادوں سے واقف کرایا جاتا ہے جن پر پورا استدلال قائم ہے۔
ہمارے علمی حلقوں میں ایک قدیم بحث یہ رہی ہے کہ کیا تاریخ اور تاریخی روایات کو بھی انہی اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے جن اصولوں پر محدثین احادیث کا جائزہ لیتے ہیں؟ اس باب میں بعض اہلِ علم بہت زیادہ سختی کے قائل ہیں، بعض انتہائی تساہل کے، جبکہ بعض ایک درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں۔ شعیب مزنی صاحب نے اس اہم سوال پر بھی گفتگو کی ہے اور اپنی کتاب میں ’’خلاصۂ بحث: اصولِ اربعہ کی روشنی میں معیارِ تحقیق کا انتخاب‘‘ کے عنوان سے اپنا منہج واضح کیا ہے۔ خواہ کوئی ان کے نتائج سے مکمل اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مصنف نے اس مسئلے پر ایک سنجیدہ اور قابلِ غور علمی موقف پیش کیا ہے۔
کتاب کا دوسرا اہم پہلو واقعۂ کربلا کے بنیادی مصادر اور راویوں کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ابو مخنف، واقدی، ابن اسحاق، مدائنی، زہری، سیف بن عمر اور دیگر معروف راویوں و مؤرخین کے حوالے سے مصنف نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ واقعۂ کربلا کا تاریخی بیانیہ کن بنیادوں پر استوار ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یا تو ان مصادر کو بلا چون و چرا قبول کر لیا جاتا ہے یا مکمل طور پر مسترد کر دیا جاتا ہے، جبکہ مصنف نے ان دونوں انتہاؤں سے گریز کرتے ہوئے ایک تحقیقی راستہ اختیار کیا ہے۔
تاہم کتاب کا سب سے اہم اور فکر انگیز حصہ میرے نزدیک امام حسین کے خطبات، خطوط، اعلانات اور منسوب بیانات کی تحقیق ہے۔ اس موضوع پر کام کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ قیامِ امام حسین کی تعبیر کا اصل سرچشمہ خود امام حسین کے فرامین اور بیانات ہیں، نہ کہ بعد کے ادوار کی سیاسی یا کلامی تعبیرات۔ شعیب مزنی صاحب نے اسی نکتے کو مرکزِ بحث بنایا ہے اور مختلف نصوص کی اسنادی و متنی تحقیق کے ذریعے قیام کے مقاصد کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب محض روایات کے ذخیرے سے آگے بڑھ کر ایک فکری مکالمے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اس مقام پر مصنف نے بعض ایسے تصورات اور نتائج کو بھی چیلنج کیا ہے جو ہمارے ہاں تقریباً مسلمات کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بعض آراء کئی قارئین کے لیے ناقابلِ قبول یا کم از کم باعثِ حیرت ہو سکتی ہیں، لیکن علمی تحقیق کا حسن ہی یہی ہے کہ وہ مروجہ تصورات کو سوال کے کٹہرے میں لانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ تحقیق اگر پہلے سے طے شدہ نتائج کی محض تکرار بن جائے تو اس کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔
کتاب کا ایک اور قابلِ ذکر وصف یہ ہے کہ مصنف صرف قدیم مباحث تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاصر علمی اور فکری رجحانات سے بھی براہِ راست مکالمہ کرتے ہیں۔ ابن خلدون کی تعبیرِ کربلا، اموی عصبیت کا نظریہ، عصر حاضر کے مجتہد مطلق جاوید احمد غامدی صاحب کے بعض استدلالات، خروج سے متعلق احادیث کا محلِ اطلاق، قاضی ابن العربی کا موقف اور جدید سلفی مکتبِ فکر کے بعض معروف اعتراضات ، یہ سب موضوعات کتاب میں زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ماضی اور حال کے درمیان ایک سنجیدہ علمی مکالمے کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔
بطورِ طالب علم، مطالعے کے دوران ایک احساس یہ بھی پیدا ہوا کہ اگرچہ مصنف نے سنی حدیثی، تاریخی اور رجالی مصادر سے بھرپور استفادہ کیا ہے، تاہم شیعہ اثنا عشری اور زیدی علمی روایت سے نسبتاً زیادہ استفادہ کیا جاتا تو بعض مباحث مزید جامع صورت اختیار کر سکتے تھے۔ خصوصاً قیامِ امام حسین، مسئلۂ خروج، ائمۂ اہلِ بیت کے سیاسی و دینی منہج، اور بعد از کربلا شیعی فکر کے ارتقا جیسے موضوعات میں امامی اور زیدی مصادر کے ساتھ براہِ راست مکالمہ بعض نتائج کو مزید مضبوط یا کم از کم زیادہ ہمہ جہت بنا سکتا تھا۔ اسی طرح خروج و عدمِ خروج کے باب میں ائمۂ اہلِ بیت کی عملی سیرت، شیعی حدیثی ذخیرے اور تشیع کی تاریخی تشکیل سے متعلق بعض سوالات بھی مزید وضاحت کے ساتھ سامنے آسکتے تھے۔ البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ مصنف نے شعوری طور پر اپنے موضوع، منہج اور کتاب کے دائرۂ بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پہلو میں توسع سے گریز کیا ہو۔ اس کے باوجود مستقبل میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیق کے لیے یہ ایک اہم جہت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ ایک طالب علم کی حیثیت سے کتاب کے بعض نتائج سے اختلاف بھی ہے اور بعض مقامات پر مزید بحث کی گنجائش بھی محسوس ہوئی، لیکن یہی کسی سنجیدہ علمی کتاب کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرے۔ علمی دنیا میں اتفاق سے زیادہ اہمیت ان سوالات کی ہوتی ہے جو تحقیق کے نئے دروازے کھولتے ہیں، اور "انکار سے استعارے تک" بلاشبہ ایسی ہی ایک تصنیف ہے۔
ہمارے خیال میں واقعۂ کربلا، اسلامی تاریخ، حدیث، سیاسی فکر اور معاصر دینی مباحث سے دلچسپی رکھنے والے ہر سنجیدہ طالب علم کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خواہ وہ مصنف کے تمام نتائج سے اتفاق کرے یا نہ کرے، اس کتاب سے گزرنے کے بعد اس کے لیے واقعۂ کربلا کے بارے میں پہلے جیسا سوچتے رہنا آسان نہیں رہے گا۔ اور شاید کسی بھی تحقیقی تصنیف کے لیے اس سے بڑی کامیابی ممکن نہیں۔
شمس الدین حسن شگری

View full details