Jo Main Nay Dekha
Jo Main Nay Dekha
Couldn't load pickup availability
Writer: Rao Rashid
Pages: 240
Category: Biography
"جو میں نے دیکھا "کے مصنف راؤ رشید اگرچہ پاکستان پولیس کے افسر تھے لیکن ان کی انفرادی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو اپنے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق بسر کیا اور ترقی کی وہ راہیں کھولیں جو پروفیشنل پولیس کے بیشتر خواص پر بھی بند رہتی ہیں۔ انہوں نے عملی زندگی کی ابتدا ایک لیکچرر کی حیثیت میں کی اور علی گڑھ میں1946ء میں تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت میں کام کیا لیکن ان کا سلسلہ وار عروج وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سپیشل سیکریٹری کی حیثیت میں ہوا ۔جب بھٹو صاحب، جنرل ضیا الحق کے فوجی شب خون میں معزول ہو کر پھانسی کے تختے تک پہنچ گئے تو راؤ رشید پر بھی سیاسی آلام اور سماجی صعوبتوں کے کئی اَدوار گزرے لیکن انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کسی قسم کی گواہی دینے سے انکار کر دیا اور جھوٹے مقدمات کی اساس پر ملازمت سے برطرف کر دیئے گئے۔
کتاب میں پاکستانی سیاست اور حکمرانی کی اندرونی کہانی انہوں نے اپنے مشاہدات سے مرتب کی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ان شخصیات کا مطالعہ کیا ہے جو ملک کی تاریخ سے کھیل رہے تھے اور اس کا جغرافیہ بگاڑ رہے تھے۔ واقعاتی اورزمانی اعتبار سے یہ کتاب راؤ رشید کی یادداشتوں کا مجموعہ اور زندگی کے طویل دورانیے کا ایک نقش ہے لیکن در حقیقت انہوں نے جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، حنیف رامے، جنرل ضیا الحق، نواب صادق قریشی ، ایئر مارشل اصغر خان، مسعود محمود، افضل سعید اور متعدد دوسرے اہم کرداروں کے شخصی زاویوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کا تجزیہ اپنے قلم سے بیان کیا اورتاریخ کو ایک ایسی چشم دید شہادت فراہم کر دی جو دوسرے ذرائع سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔

بہت زبردست کتاب ہے جو ریاستی نظام میں اتارچڑھاؤ کوبیان کرتی ہے چونکہ مصنف خود ایک اعلی آفیسرتھا تو اس نے 1970ء کے دور کے اہم واقعات بیان کئے ہی۔ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر بھی نہایت ایمانداری سے کیا ہے ۔راؤ صاحب نے بہت صاف اور شفاف الفاظ میں ریاستی اداروں کی زہنیت اور کے کارناموں کیساتھ انکی کی سیاہ کاریوں کو بھی بیان کیا ہے ۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنی سروس پوری کر کے اس نظام سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر آپ باہر بیٹھ کر اس نظام کو دیکھتے ہیں اور اپنا کیا یاد بھی آتا ہے اچھا یا برا اور پھر آپ کا ضمیر آپ کو قلم اور کلپ بورڈ اٹھا کر دیتاہے کہ بھائی اب لکھو تم نے یہ اچھا کیا تھا اور یہ بہت برا۔۔ پھر آپ لکھتے ہیں اور لکھکر اپنے آپ کو ہلکا پھلکا اورشایدمظلوم بھی پیش کرتے ہیں۔ بہرحال یہ پر اثرتحریر ہے جو ہمیں پس پردہ حقائق سے آگاہی دیتی ہے