1
/
of
1
Mohtram Quaid e Azam - محترم قائد اعظم - ایک پاکستانی سول سرونٹ کے 70 سال
Mohtram Quaid e Azam - محترم قائد اعظم - ایک پاکستانی سول سرونٹ کے 70 سال
Regular price
Rs.4,300
Regular price
Rs.5,000
Sale price
Rs.4,300
Unit price
/
per
Shipping calculated at checkout.
Couldn't load pickup availability
Writer: Salman Farooqi
Pages: 440
Category: History Books
محترم قائداعظم،
ایک پاکستانی سول سرونٹ کے 70 سال
اُمیدیں، مایوسیاں اور خواب
------------------------
ابتدائی برسوں میں آپ کی پٹیالہ کی زندگی کا بیان، یادوں کی تازگی اور ہر واقعے کی تفصیل نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔
آپ کے اسلوب تحریر، زبان اور اظہار نے اُس زمانے ، ان جگہوں اور اُن لوگوں کا ایسا جیتا جاگتا نقشہ کھینچا ہے جیسے کوئی فنکار اپنے قلم سے لمحے کو قید کر کے دل، ذہن اور یادداشت پر ہمیشہ کے لیے نقش کر دے۔
یہ یادداشتیں کسی مقناطیس کی طرح قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں، اُسے وقت کے دھارے میں پیچھے لے جاتی ہیں، مناظر کو جاگ اٹھنے پر مجبور کرتی ہیں، آوازوں کو زندہ کرتی ہیں، واقعات کو نمایاں کرتی ہیں، اور ہمارے ملک کی پر آشوب تاریخ کو سامنے لے آتی ہیں۔
میں خود بھی اُن سیاسی ادوار سے گہری وابستگی محسوس کرتی ہوں جو ساٹھ کی دہائی سے لے کر 2013 تک پھیلے ہوئے ہیں۔
شہناز وزیر علی
پریزیڈینٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سابق چئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن آف پاکستان
----------------------------
ذاتی مشاہدات اور تاریخ کے اہم واقعات کی چشم دید رو دادوں کو یکجا کرتے ہوئے، پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کلیدی موڑوں پر روشنی ڈالنے والی یہ یادداشت، ایک ممتاز سابق سول سرونٹ کی تحریر کے طور پر پاکستان کی بعد از آزادی کہانی میں ایک خوش آئندہ اضافہ ہے۔
طالب علمی کے دنوں سے لے کر اعلیٰ سرکاری عہدوں تک، بشمول محترمہ بینظیر بھٹو کے سیکرٹری کے طور پر خدمات کے دوران، سلمان فاروقی نے پاکستان کی پر آشوب سیاسی تاریخ کے نشیب و فراز اور تجربات کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔
بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوئی یہ کتاب "محترم قائد اعظم،" ایک سول سرونٹ کے خوابوں، امیدوں اور محرومیوں کا ایسا بیان ہے جو سات دہائیوں پر محیط سفر میں کامیابیوں، کمزوریوں اور خود ساختہ رکاوٹوں کا آئینہ بن جاتی ہے۔
ایک ایسے شخص کے مشاہدات جو اقتدار کے ایوانوں میں بھی رہا اور نظام کا حصہ بھی، قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ ”پاکستان میں دریائے سندھ کے سوا کچھ اور کسی واضح سمت میں کیوں نہیں بہتا“۔
یہ کتاب تاریخ کے طلبہ اور عام قارئین، دونوں کے لیے غور و فکر اور سیکھنے کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔
عائشہ جلال
میری رچرڈ سن پروفیسر آف ہسٹری
