1
/
of
3
Pakistan Is Ka Qayam Aur Ibtadai Haalat - پاکستان اس کا قیام اور ابتدائی حالات
Pakistan Is Ka Qayam Aur Ibtadai Haalat - پاکستان اس کا قیام اور ابتدائی حالات
Regular price
Rs.950
Regular price
Rs.1,190
Sale price
Rs.950
Unit price
/
per
Shipping calculated at checkout.
Couldn't load pickup availability
Writer: Sri Prakash
Pages: 217
Category: Biography,Rashid Ashraf, Zinda Kitabain
زندہ کتاب نمبر: 391 - پاکستان اس کا قیام اور ابتدائی حالات
میرا گمان تھا کہ یہ پرائیویٹ دعوت ہوگی لیکن وہاں پہنچے پر پتا چلا کہ اور بہت سے حضرات مدعو تھے۔ ڈنر سے پہلے سب مہمان ایک صف میں کھڑے ہوئے۔ مسٹر جناح اور ان کی بہن مس فاطمہ جناح آئیں اور سب سے مصافحہ کیا۔ چونکہ میں صرف ترکاری کھاتا ہوں اس لیے میرے لیے مسئلہ تھا۔ اعلیٰ قسم کی شرابیں خوبصورت بوتلوں میں تھیں۔ شرابوں کے نام چاندی کی چھوٹی چھوٹی تختیوں پر کھدے ہوئے تھے۔ یہ تختیاں چاندی کی زنجیروں میں بوتلوں پر لٹک رہی تھیں۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ کچھ مہمانوں نے تو اپنے گلاس بھرلیے اور نہ پینے والے آگے بڑھا دیتے تھے۔ یہ چیز پہلی بار میرے دیکھنے میں آئی۔
.
کھانے سے فراغت کر کے ہم لوگ ڈرائنگ روم میں اکٹھا ہوئے۔ مسٹر جناح اپنے مہمانوں سے ملنے کے لیے خود نہیں اٹھے۔ وہ ایک گدے دار صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور فرداً فرداً ان لوگوں کو بلاتے تھے جو ان کے منظور نظر تھے۔ ان لوگوں کی فہرست ایک یورپین افسر کے ہاتھ میں تھی جو غالباً ان کا ملٹر ی سیکریٹری تھا۔ دیگر حضرات اِدھر اُدھر کھڑے تھے۔
.
سب سے پہلے مجھے باریابی ہوئی اور میں ان کے پاس کے چلا گیا۔ انھوں نے بڑے اخلاق سے پوچھا۔ ”مسٹر سری پر کاش کیسے ہو؟ تم سے بہت دنوں کے بعد ملاقات ہوئی۔“ پہلے تو میں نے ان کی عنایت کا شکریہ ادا کیا ... پھر میں نے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں بشرطیکہ آپ برا نہ مانیں اور قبل اس کے میں جو کہنا چاہتا ہوں کہوں آپ سے خواستگار عفو ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو عرض کروں۔ انھوں نے کہا: ”ضرور کہو۔ ہر وقت تو مجھ کو چاپلوس گھیرے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی دوست تو ملے جو صاف گو ہو، جو کہنا چاہتے ہو ضرور کہو۔“ اس جواب سے میری ہمت بڑھی۔ پھر بھی اپنے ڈپلومیٹک عہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں متردد تھا اس لیے میں نے کہا کہ میں آپ کا بہی خواہ ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو غلط فہمی نہ ہوگی۔ ان کے دوبارہ یقین دلانے پر میں نے کہا (اور اتنی مدت گزر جانے کے بعد وہ الفاظ ہنوز مجھے یاد ہیں) کہ ”میں یہ جانتا ہوں کہ مذہبی اختلافات کی بنیاد پر یہ بٹوارا ہوا ہے اب اس تقسیم کی تکمیل ہو جانے پر اس بات پر کیوں زور دیا جائے کہ یہ اسلامی حکومت ہے۔“ میں نے یہ کہنے کی بھی جرأت کی کہ ”اگر اس پر زور نہ دیا جائے کہ یہ اسلامی حکومت ہے تو غیر مسلم یہاں سے نہ بھاگیں گے۔“ پھر میں نے اپنے تأثرات اور چشم دید حالات کا تذکرہ کیا کہ ملک کے اندرونی حصے کیسے ویران پڑے ہیں اور خود ایسے ہزاروں آدمیو ں سے میرا سابقہ پڑا ہے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگے جا رہے ہیں۔
اس پر انھوں نے کہا میں نے لفظ اسلامی کبھی نہیں استعمال کیا ہے تم ایک ذمہ دار افسر ہو اور یہ بتانا تمہارا فرض ہے کہ میں نے کہاں ایسا کہا ہے؟ میں جواباً کہا کہ وزیراعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خاں نے کہا تھا پاکستان ایک حکومت اسلامی ہے۔ مسٹر جناح نے کہا کہ ”تب تم لیاقت علی سے نمٹو، مجھ سے کیوں جھگڑ رہے ہو؟“ میں خاموش نہیں رہا بلکہ کہا کہ خود آپ نے اپنے نشریے میں 31 اگست کو لاہور میں کہا تھا کہ ”پاکستان اسلامی حکومت ہے۔“ مسٹر جناح کو یقین کامل تھا کہ انھوں نے پاکستان کو ”اسلامی ریاست“ کبھی نہیں کہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے جواب دیا کہ تم اصل بیان مجھے دکھاؤ۔یہ کہہ کر وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور چہرہ غضب ناک ہو گیا اور نہایت معمولی طریقے سے مجھ کو رخصت کر دیا۔ مجھے امید ہے کہ میرے بعد لوگ ملے ہوں گے۔ انھوں نے سلامت روی کا راستہ اختیار کیا ہو گا۔
۔
میری بد قسمتی کہ مجھے کامل وثوق تھا کہ انھوں نے اپنے نشریے میں لفظ ”اسلامی“ استعمال کیا تھا۔ صبح ہوتے ہی میں کراچی کے ایک مشہور اخبار کے ہندو ایڈیٹر کے پاس جن سے میں خوب شناسا تھا، پہنچا۔ ان سے شروع ستمبر کے اخبار کی وہ کاپی مانگی جس میں وہ پورا نشریہ شائع ہوا تھا۔ ایڈیٹر ٹوہ لگانے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تب میں نے بصیغہئ راز شب گزشتہ مسٹر جناح سے انٹرویو کا تذکرہ کردیا۔ یہ بھی سوئے اتفاق ہے کہ بعض اخبار نویس اس نوعیت کے معاملے کو ہضم نہیں کرسکتے چنانچہ اس نے اپنے اخبار میں میرا انٹرویو شائع کر دیا۔ اس کے بعد مجھے مسٹر جناح کا خط ملا جس میں انھوں نے حق بجانب شکایت کی تھی کہ میں نے ڈنر کے بعد گفتگو اخبار میں شائع کرا دی۔ مجھے خود بھی ایڈیٹر پر بہت غصہ آیا، لیکن میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ میں نے مسٹر جناح سے بہت معافی چاہی اور اخبار کا وہ تراشا بھی ملفوف کردیا جس میں ان کی نشریہ تقریر چھپی تھی۔
.
اس اخبار کا میں نے بہت غور سے مطالعہ کیا۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ لفظ مسلم کا پانچ چھ بار اعادہ کیا تھا۔ میں نے اپنی غلطی پر اظہار افسوس کیا۔ مسلم اور اسلامی میں مجھے تشابہ ہوگیا تھا اور عوام کی نظروں میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بالخصوص جب کہ وزیراعظم پاکستان اپنی تقریروں اور تحریروں میں دونوں لفظ استعمال کرتے تھے ایسا معلوم ہوتا کہ اس مسئلے پر مسٹر جناح نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
۔
پاکستان، اس کا قیام اور ابتدائی حالات ۔۔۔ صفحات 67 سے 70
پاکستان میں انڈیا کے پہلے ہائی کمشنر سری پرکاش کی یادداشتیں
اگست 1947 سے فروری 1949
