Qaim Deen - قائم دین
Qaim Deen - قائم دین
Couldn't load pickup availability
Writer: Ali Akbar Natiq
Pages: 152
Category: Short stories, Afsany
یہ ’’قائم دین ‘‘ہے ۔ قارئین آپ سب جانتے ہیں ’’قائم دین ‘‘کتاب میں افسانے ایک دُنیا سے اپنی دل فریبی کو منوا چکے ہیں اور میری ذات کی سادگی اِس میں خوب لوگوں نے دیکھ لی ہے۔ سچ پوچھیے تو مَیں وہی کچھ ہوں جو اِن افسانوں میں ہوں۔ سیدھا سادا، ہلکا پھلکا سا آدمی جسے لوگ ادیب اور شاعر کہہ کر پھونک بھرتے ہیں جیسا کے باقی سب ادیبوں میں بھر دیتے ہیں مگر مَیں جانتا ہوں پھونک ہمیشہ آگ کو بھڑکاتی ہے اور ادیب اگر اُس پھونک کے نقصان کو نہ سمجھے تو اُسی تکبّر کی آگ میں جل جاتا ہے اور تخلیق بے برکتی کی راکھ بن جاتی ہے۔ چنانچہ مَیں بالکل عام بندہ ہوں۔ تھڑوں پر بیٹھنے والا، مفلسوں میں زندگی گزارنے والا۔ واللہ یہ کتاب اتنی خوبصورت چھپی ہے کہ یقین جانیے مجھے اپنی تحریروں پر رشک آنے لگا ہے۔ آپ بھی پڑھیے اگر مجھ سے محبّت نہ ہو جائے تو مَیں جھوٹا۔
علی اکبر ناطق

اک خوبصورت کتاب منفرد، انمول کہانیوں کے ساتھ۔ یہ افسانے حقیقت سے قریب تر ہیں کہ پیش کرتے ہیں اصل زندگی کا عکس جو موجود ہے ان پنوں میں۔ ایک آدمی کہ جس کو ساری زندگی طعنہ دیا جاتا ہے اس پیدائش کا جو اس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ ایک آدمی جو پانیوں کو اپنا کھیل سمجھتا ہے اور آخر وہی پانی اس کی زندگی لے لیتا ہے۔ ایک آدمی جو کہ گورکن ہے اور بڑے بڑے لوگوں کی قبریں بناتا ہے اور ان کی سیوا کرتا ہے لیکن جب خود مرتا ہے تو وہی بڑے آدمی اسے اپنے قبرستان میں دو گز زمیں بھی نہیں دیتے۔ ایک آدمی اس محبت کے لیے اپنا مذہب تک تبدیل کر دیتا ہے جو اسے نہیں ملتی مگر ہاں آخر میں وہ اپنے ساری جائیداد اس لیے چھوڑ دیتا ہے کیونکہ سفارش "وہ" کرنے آئی تھی۔ اور آخری افسانہ "شیدے نے پگڑی باندھ لی" ناقابل بیان ہے اس کا اختتام۔ افسانہ ختم ہوتے ہی آپ کتاب بند کر کے کچھ لمحوں کے لیے آنکھیں پھاڑ کر فضا کو تکتے رہتے ہیں اور اختتام اپنے الفاظ ڈھونڈتا رہتا ہے۔
کچھ افسانے بالکل سمجھ سے بالاتر لگے جس میں ایک ہے "معمار کے ہاتھ" " شہابو خلیفہ کا شک" "شامدار کی پازیبیں" یہ وہ افسانے ہیں جس کی کہانی کوئی خاص اثر نہیں رکھتی۔
مطالعہ ۴ مئی ۲۰۲۶